Home General Health گیس کے  11 علاج جو آپ کی بے چینی کو ختم کریں

گیس کے  11 علاج جو آپ کی بے چینی کو ختم کریں

gas-ka-ilaj
Spread the love

پیٹ میں گیس بننا ایک قدرتی عمل ہے، تاہم اگر گیس بہت زیادہ  بننا شروع ہو جائے تو یہ تکلیف دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ گیس کی وجہ سے پیٹ یا سینے کے شدید درد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یہ درد اس قدر شدید ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے دل کے دورے، اپینڈکس، اور مثانے کے مسائل لاحق ہونے کا خیال ہونے لگتا ہے۔

گیس کے مسائل سے چھٹکارا پانے سے پہلے ان وجوہات کے متعلق جاننا ضروری ہوتا ہے جن کی وجہ سے گیس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر دن میں تیرہ سے اکیس مرتبہ گیس خارج ہو تو  اسے نارمل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اگر کھانے سے پہلے یا بعد میں پیٹ پھول جائے یا گیس بہت زیادہ بننا شروع ہو جائے تو پھر آپ کو علاج کی ضرورت ہو گی۔

گیس کا علاج

گیس کے مسائل سے چھٹکارا پانے کے لیے مندرجہ ذیل گھریلو علاج مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

سونف کا استعمال

کھانوں کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے تو سونف کو قدیم زمانے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سونف سے طبی فوائد حاصل کرنے کے لیے اسے کچا بھی چبایا جا سکتا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں کھانے، خاص طور پر رات کے کھانے کے بعد اسے چبایا جاتا ہے، کیوں کہ اسے چبانے سے پیٹ پھولنے اور گیس جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

سونف فائبر کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو آنتوں اور معدے کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے، جس سے ہاضمے کے نظام سے جڑے مسائل سے نجات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے ساتھ ساتھ سونف کو جراثیم کش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں جس سے آنتوں اور معدے میں ایسے بیکٹیریا کا خاتمہ ہوتا ہے جو گیس کی وجہ بنتے ہیں۔

سیب کا سرکہ

سیب کے سرکہ کو گیس کا ایک روایتی علاج سمجھا جاتا ہے۔ گیس کی علامات سے چھٹکارا پانے کے ایک چمچ سیب کے سرکے کو ایک گلاس پانی میں شامل کر کے استعمال کریں۔

طبی ماہرین کے مطابق سیب کے سرکے میں پائی جانے والی مختلف طبی خصوصیات کی وجہ سے پیٹ میں بننے والی گیس کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، تاہم اس حوالے مزید طبی تحقیقات کی ضرورت ہے تا کہ یہ جانا جا سکے کہ سیب کا سرکہ کس طرح گیس کی شدت میں کمی لاتا ہے۔

کھانا آہستگی سے کھائیں

تیزی کے ساتھ اور کھڑے ہو کر کھانا کھانے سے زیادہ مقدار میں ہوا جسم میں داخل ہوتی ہے جس سے گیس کی علامات شدت اختیار کر سکتی ہیں۔ 

گیس کا سامنا کرنے والے افراد کو چاہیئے کہ وہ کھانا آہستگی سے کھائیں اور کھانے کے ہر لقمے کو تیس مرتبہ تک چبائیں۔ کھانا آہستگی کے ساتھ کھانے سے نہ صرف ہاضمہ کا نظام بہتر ہو گا بلکہ پیٹ کے اپھار کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

بیکنگ سوڈا

گیس سے نجات حاصل کرنے کے لیے بیکنگ سوڈا کا استعمال بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ آدھا چمچ بیکنگ سوڈا کو ایک گلاس پانی میں مکس کر کے پی لیں، اس سے گیس کی شدت میں کمی آئے گی۔

تاہم اس بات کا خیال رکھیں کہ بیکنگ سوڈا کو آدھا چمچ سے زیادہ استعمال نہ کیا جائے، کیوں کہ اس زیادہ مقدار استعمال کرنے سے پیٹ کے کچھ مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔

ادرک

ادرک کو بھی ہاضمہ کا نظام بہتر بنانے کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے سر درد، پیٹ درد، اور گلے کی خراش کی شدت میں بھی کمی آتی ہے۔

گیس جیسے ہاضمہ کے مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لیے ادرک کے ایک ٹکڑے کو ایک کپ پانی میں شامل کر کے ابال لیں۔ پانی کا رنگ تبدیل ہونے پر اسے چولھے سے اتار کر استعمال کر لیں۔ ذائقے کو خوش گوار بنانے کے لیے آپ ادرک کے قہوے میں لیموں اور شہد بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ گیس کی شدت کو کم کرنے کے لیے ادرک کو کچا بھی چبایا جا سکتا ہے، جب کہ اسے سلاد کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اجوائن کا استعمال

گیس کے علاج کے لیے اجوائن کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اجوائن میں پائے جانے والے تھائی مول کی وجہ سے ہاضمہ کے نظام میں بہتری آتی ہے اور کھانا آسانی کے ساتھ ہضم ہو جاتا ہے اور گیس زیادہ مقدار میں نہیں بنتی۔

گیس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک چمچ اجوائن کے بیج لے کر ایک کپ پانی کے ساتھ استعمال کر لیں۔ تاہم دن میں ایک مرتبہ ہی اجوائن کے بیج استعمال کریں، کیوں ان بیجوں کو زیادہ مرتبہ استعمال کرنے سے معدے کے مسائل بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔

لونگ کا تیل

لونگ کے تیل کو بھی بد ہضمی، گیس، اور پیٹ کے اپھار کے لیے بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ لونگ میں اینٹی السر خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔

کھانے کے بعد لونگ کا تیل استعمال کرنے سے ہاضمہ کے نظام میں کردار ادا کرنے والے انزائمز میں اضافہ ہوتا ہے جس سے آنتوں میں موجود گیس میں کمی آتی ہے۔

گیس کی وجہ بننے والی غذاؤں سے اجتناب

مختلف غذاؤں کی وجہ سے گیس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہوتا ہے ایسی غذاؤں کے استعمال کو فوری طور پر ترک کیا جائے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک غذا کچھ افراد میں گیس کی وجہ بنے، جب کہ دوسرے افراد کو اس غذا کے استعمال کی وجہ سے گیس کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تاہم آرٹی فیشل شوگر، تلی ہوئی غذائیں، لہسن، پیاز، دالیں، اور مصالحے دار غذائیں گیس کی وجہ بن سکتی ہیں، اس لیے گیس کی علامات لاحق ہونے کی صورت میں ہر صورت ایسی غذاؤں کے استعمال کو ترک کرنا چاہیئے۔

سگریٹ نوشی سے اجتناب

سگریٹ نوشی نہ صرف پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے، بلکہ اس کے نقصانات کی وجہ سے مجموعی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔

کچھ لوگ سگریٹ نوشی کے نقصانات سے بچنے کے لیے الیکٹرک اسگریٹ استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے کہ الیکٹرک سگریٹ کی وجہ سے نقصانات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ سگریٹ نوشی کی وجہ سے معدے کے مختلف مسائل لاحق ہوتے ہیں جن میں گیس سرِ فہرست ہے۔

اس لیے گیس سے نجات حاصل کرنے کے لیے سگریٹ نوشی سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔ گیس کے خلاف مؤثر نتائج حاصل کرنے کے لیے آپ کو مکمل طور سگریٹ نوشی ترک کرنا ہو گی کیوں کہ سگریٹ نوشی میں کمی سے مفید نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

لسی

لسی کو جنوب ایشائی ممالک میں ایک روایتی مشروب سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف ذائقے میں بہترین ہوتی ہے بلکہ اس کا استعمال صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔ خاص طور پر اگر لسی کو خالی پیٹ استعمال کیا جائے تو معدے کے مختلف مسائل سے آسانی کے ساتھ چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

گیس جیسے مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک گلاس لسی میں چٹکی بھر کالا نمک اور اجوائن شامل کر کے اچھی طرح مکس کر لیں۔ اس مشروب کو دن میں ایک سے دو مرتبہ استعمال کرنے سے گیس کی شدت کم ہونا شروع ہو جائے گی۔

پودینے سے بنے ہوئے سپلیمنٹس کا استعمال

پودینے کے تیل سے بنے ہوئے سپلیمنٹس کو بہت عرصے سے معدے کے مسائل جیسا کہ پیٹ کے اپھار، قبض، اور گیس وغیرہ سے چھٹکارا پانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ طبی تحقیقات کے مطابق بھی یہ سپلیمنٹس ہاضمہ کے مسائل کے خلاف مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

گیس کا سامنا کرنے کی صورت میں پودینے کے تیل سے بنے ہوئے ایسے کیپسول استعمال کریں جو کم وقت میں معدے میں گھلیں نہیں، کیوں کہ ان کیپسول کے جلد گھلنے سے سینے کی جلن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ پودینے کے سپلیمنٹس کو خون کی کمی کا شکار افراد استعمال کرنے سے گریز کریں کیوں کہ یہ سپلیمنٹس آئرن کو جسم میں جذب ہونے سے روکتے ہیں۔

گیس کے یہ علاج اگر آپ کے لیے مؤثر ثابت نہ ہوں تو آپ کو کسی ماہرِ امراضِ معدہ سے رابطہ کرنا ہو گا، آسانی کے ساتھ کسی ماہرِ امراضِ معدہ سے رابطہ کرنے کے لیے آپ ہیلتھ وائر کا پلیٹ فارم استعمال کر سکتے ہیں، کیوں کہ ہیلتھ وائر نے رابطوں کو بہت آسان بنا دیا ہے۔

Related Posts

Leave a Comment