Home Women's Health کیا حمل کے دوران مباشرت کر سکتے ہیں؟ جانیے اس جیسے دوسرے سوالات کے جوابات بھی

کیا حمل کے دوران مباشرت کر سکتے ہیں؟ جانیے اس جیسے دوسرے سوالات کے جوابات بھی

hamal-kay-doran-mubashrat
Spread the love

کیا حمل کے دوران مباشرت کر سکتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر حاملہ خاتون کو حمل ٹھہرنے کے بعد درپیش آتا ہے۔ یہ سوال حاملہ خواتین کو اس لیے درپیش آتا ہے کہ حمل کے دوران جسمانی تعلقات قائم کرنے سے بچے کو نقصان تو نہیں پہنچے گا۔ اور حمل کے دوران کے مباشرت سے حاملہ خاتون پر منفی اثرات تو ظاہر نہیں ہوں گے۔

ان تمام سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ڈاکٹر احمد جمال چوہدری کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران مباشرت کا عمل عمومی طور پر محفوظ ہوتا ہے۔ تاہم اگر حاملہ خاتون کو اعضائے مخصوصہ کے انفیکشن جیسی طبی علامات لاحق ہوں تو حمل کے دوران خاوند اور بیوی کو جسمانی تعلق قائم کرنے سے قبل اپنے گائنی ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیئے۔

ڈاکٹر احمد جمال کا مزید کہنا ہے کہ بہت سے معاشروں کی طرح ہمارے معاشرے کے بہت سے افراد میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے حمل کے دوران سیکس کرنے سے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے، لیکن اس بات کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سائنسی طبی تحقیقات بھی اس بات کی تصدیق نہیں کرتیں کہ حمل کے دوران سیکس سے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آخری سوال کہ کیا حمل کے دوران مباشرت سے خاتون کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر احمد جمال کہتے ہیں کہ حمل کے دوران مباشرت کے عمل سے حاملہ خاتون کی صحت پر منفی اثرات ظاہر نہیں ہوتے۔

حمل کے دوران خواتین میں جنسی ہارمونز ختم نہیں ہوتے جس کی وجہ سے جسمانی تعلق قائم کرنے کی خواہش باقی رہتی ہے۔ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اگر جسمانی تعلقات قائم کر لیے جائیں تو عمومی طور پر مضرِ صحت اثرات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

 حمل کے دوران مباشرت کے طریقے

اکثر شادی شدہ افراد اس سوال کی وجہ سے بھی پریشان رہتے ہیں کہ کیا حمل کے دوران انہیں مباشرت کے لیے خصوصی طریقے اپنانے چاہیئں اور حمل کے دوران مباشرت کیسے کریں؟

اس سوال کے جواب میں ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے گائنا کالوجسٹ کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران جسمانی تعلقات قائم کرنے کے لیے خصوصی طریقے اپنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جسمانی تعلقات قائم کرنے کے لیے جو طریقے آپ عام دنوں میں استعمال کرتے ہیں، انہی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے آپ حمل کے دوران بھی جسمانی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔

تاہم حمل کے دوران جسمانی تعلقات قائم کرنے کے لیے ایسے طریقے اپنانے سے گریز کرنا چاہیئے جن کی وجہ سے پیٹ پر زیادہ پریشر پڑے۔

اس کے علاوہ حمل کے دوران جسمانی تعلقات کے متعلق اور بہت سے سوالات ایسے ہیں جن کے متعلق جاننا نہایت ضروری ہے۔ ان سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

کیا حمل کے دوران سیکس مفید ثابت ہوتا ہے؟

حمل کے دوران مباشرت مفید ثابت ہو سکتی ہے، جیسے عام حالات میں مباشرت صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ حمل کے دوران مباشرت سے صحت کو براہ راست فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ بالواسطہ فائدہ پہنچتا ہے۔

مدافعتی نظام کی مضبوطی کو صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق، جسمانی تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے مدافعتی نظام میں بہتری آتی ہے جس سے مختلف بیماریوں کے خلاف مدد ملتی ہے۔

حمل کے دوران مدافعتی نظام میں بہتری آنے سے حاملہ خواتین انفیکشنز کا کم شکار ہوتی ہیں جس سے ان کی اور ان کے بچے کی صحت برقرار رہتی ہے اور حمل کی پیچیدگیوں کے خطرات میں بھی کمی آتی ہے۔

کیا مباشرت کی وجہ سے اسقاط حمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔ مباشرت کی وجہ سے اسقاطِ حمل نہیں ہوتا۔ تاہم اگر کسی خاتون کو اسقاط حمل کا سامنا کرنا پڑے تو جسمانی تعلقات اس اسقاط کی وجہ نہیں ہوں گے، اگر پیٹ میں  مؤثر طریقے سے بچے کی افزائش نہ ہو رہی تو اسقاطِ حمل کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، لیکن جسمانی تعلقات کی وجہ سے اسقاطِ حمل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

کیا حمل کے دوران مباشرت کی وجہ سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

اس سوال کا جواب ہاں میں ہو سکتا ہے۔ حمل کی وجہ سے خواتین کے جسم میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، ان تبدیلیوں میں سرِ فہرست چھاتیوں میں تبدیلی ہے۔ حمل کی وجہ سے اعضائے مخصوصہ میں تناؤ بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔

اگر حمل کے دوران اعضائے مخصوصہ میں تناؤ واقع ہو جائے تو جسمانی تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے حاملہ خاتون کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حمل کے دوران جسمانی تعلقات کی وجہ سے زیادہ تکلیف کا سامنا کرنے کی صورت میں آپ کو گائنا کالوجسٹ سے رابطہ ضرور کرنا چاہیئے۔

حمل کے  دوران کس وجہ سے جسمانی تعلقات قائم نہیں کرنے چاہئیں؟

جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ عمومی طور پر تو حمل کے دوران جسمانی تعلقات محفوظ ثابت ہوتے ہیں، تاہم مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ایک گائنا کالوجسٹ حمل کے دوران آپ کو جسمانی تعلقات قائم کرنے سے روک سکتا ہے۔

اسقاطِ حمل

اگر آپ کو ماضی میں اسقاطِ حمل کا سامنا رہا ہے تو یہ ممکن ہے کہ گائنا کالوجسٹ آپ کو مشورہ دے کہ حمل کے دوران جسمانی تعلقات قائم کرنے سے گریز کریں۔

قبل از وقت پیدائش

اگر آپ میں قبل از وقت پیدائش کے چانسز ہیں تو پھر بھی حمل کے دوران جسمانی تعلقات طبی مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔

اعضائے مخصوصہ سے خون بہنا

اگر حمل کے دوران کسی وجہ کے بغیر اعضائے مخصوصہ سے خون بہہ رہا ہو یا اعضائے مخصوصہ کا درد لاحق ہو تو جسمانی تعلقات سے گریز کرنا چاہیئے۔

ان وجوہات کے علاوہ کئی طبی علامات کی وجہ سے بھی گائنا کالوجسٹ آپ کو مشورہ دے سکتا ہے کہ حمل کے مباشرت سے گریز کریں۔ اگر آپ کو حمل کے دوران کسی طبی مسئلے کا سامنا نہیں کر رہے تو پھر بھی جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پہلے ایک مرتبہ گائنا کالوجسٹ سے مشورہ ضرور کرنا چاہیئے تا کہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔

Related Posts

Leave a Comment

Call for assistance
042 32500989