Home Women's Health حمل میں قبض کے 5 علاج جانیں اور اس سے چھٹکارا پائیں

حمل میں قبض کے 5 علاج جانیں اور اس سے چھٹکارا پائیں

Hamal Ma Kabaz Ka Ilaj
Spread the love

حمل کے دوران خواتین کو کافی طبی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قبض کا شمار بھی ان طبی علامات میں ہوتا ہے جو حاملہ خواتین کو سب سے زیادہ شکار بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ حاملہ خواتین کو پیٹ درد اور متلی وغیرہ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

کچھ خواتین کو حمل کی ابتدا میں قبض لاحق ہوتی ہے، جب کہ کچھ خواتین کو حمل کی ابتدا اور درمیان میں یہ بیماری لاحق نہیں ہوتی بلکہ حمل کے آخری ایام میں یہ انہیں شکار بناتی ہے۔ حمل کے دوران قبض کے علاج جاننے سے قبل یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ آخر حمل کے دوران بہت سی خواتین کو قبض کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے۔

حاملہ خواتین کے جسم میں بہت سی ہارمونل تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور ان میں آئرن جیسے منرلز کی کمی بھی واقع ہو جاتی ہے جس سے قبض کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ حمل کے دوران قبض کے متعلق بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ثناء اقبال کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران پروجیسٹرون نامی ہارمون کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے جس سے جسم کے پٹھے مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتے۔

جسم کے پٹھوں کے مؤثر طریقے سے کام نہ کرنے کی وجہ سے ہاضمے کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے اور کھانا جلدی ہضم نہیں ہوتا جس سے قبض کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ حمل کے دوران قبض اس قدر عام طبی علامت ہے کہ ایک طبی تحقیق کے مطابق ہر تین میں سے ایک حاملہ خاتون کو قبض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

چوں کہ قبض کوئی خطرناک طبی علامت نہیں ہے اس لیے اس سے چھٹکارا پانا مشکل نہیں ہوتا۔ طرزِ زندگی میں تبدیلی لا کر اس سے بچا اور چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

حمل میں قبض کا علاج

حمل میں قبض کے مندرجہ ذیل علاج نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

فائبر سے بھرپور غذاؤں کا استعمال

فائبر کے استعمال کو قبض کا سب سے بہترین اور مؤثر علاج سمجھا جاتا ہے۔ اس طبی علامت کے دوران اگر فائبر کو بھرپور مقدار میں استعمال کیا جائے تو ادویات کے بغیر اس سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ باقاعدگی سے فائبر یا اس سے بھرپور غذائیں استعمال کر رہے تو اس بات کے امکانات نہایت کم ہوں گے کہ قبض آپ کو متاثر کرے۔

حمل کے دوران بھی قبض سے بچنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے فائبر سے بھرپور غذائیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ان غذاؤں کے استعمال سے حاملہ خواتین کو نہ صرف فائبر حاصل ہو گا بلکہ ان  کو وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس بھی حاصل کرنے میں مدد ملے گی جو ان کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کریں گے۔

حاملہ خواتین کے لیے تازہ پھلوں، سبزیوں، لوبیے، مٹر، اور دالوں کے استعمال کو فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اگر آپ حاملہ ہیں تو ان غذاؤں کے استعمال کو یقینی بنائیں تا کہ قبض جیسی طبی علامات سے بچا جا سکے۔

پانی کے استعمال میں اضافہ

پانی کے استعمال میں کمی کے نقصانات سے ہر کوئی بخوبی واقف ہوتا ہے۔ اگر پانی کو جسم کی ضرورت کے مطابق استعمال نہ کیا جائے تو نہ صرف گردوں کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہاضمہ کے نظام پر بھی منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دن میں کم از کم آٹھ گلاس پانی ضرور استعمال کرنا چاہیئے تا کہ ہاضمہ کے نظام اچھے طریقے اسے افعال سر انجام دیتا رہے۔ ہاضمہ کی بہتری کے لیے گرم پانی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر پانی کے استعمال سے آپ کی قبض کی علامات میں کمی نہیں آ رہی تو پانی کے بجائے سوپ یا تازہ پھلوں کا جوس استعمال کر سکتے ہیں۔

پرو بائیوٹکس کا استعمال

آنتوں میں بہت سے مفید بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان بیکٹیریا کی تعداد میں کمی واقع ہونا شروع ہو جائے یا یہ ختم ہو جائیں تو ہاضمہ کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ آنتوں میں پائے جانے والے ان بیکٹیریا کی افزائش کے لیے پرو بائیوٹکس کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔

پرو بائیوٹکس حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں قدرتی غذاؤں کے استعمال سے حاصل کیا جائے۔ دہی کے استعمال کو پرو بائیوٹکس حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ حمل کے دوران دہی کے استعمال کو یقینی بنا کر پرو بائیوٹکس حاصل کیے جا سکتے ہیں جس سے آنتوں کے بیکٹیریا کی افزائش ہو گی اور قبض جیسی طبی علامات کے خطرات کم ہوں گے۔

اگر آپ دہی کے استعمال سے پرو بائیوٹکس استعمال نہ کرنا چاہیں تو انہیں سپلیمنٹس کے استعمال سے بھی حاصل کیا جا سکتے ہے۔ التمش ہسپتال کراچی سے تعلق رکھنے والے گائنا کالوجسٹ سے مشورے کے بعد حمل کے دوران یہ سپلیمنٹس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ورزش کی عادت

حمل کے دوران قبض سے بچاؤ اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ورزش کی عادت بھی کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ورزش کی عادت اپنانے سے آنتوں کے صحت کے ساتھ ساتھ ہاضمہ کا نظام بھی بہتر ہوتا ہے جس سے قبض کی شدت میں کمی آتی ہے۔

تاہم حمل کے دوران آپ کو کون سی ورزشیں کرنی چاہیئے، اس کے لیے آپ اپنے گائنا کالوجسٹ سے رہنمائی طلب کر سکتے ہیں کہ حمل کے دوران کون سی ورزشیں زیادہ مفید ثابت ہوں گی۔ اگر کو حمل کے دوران ورزش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو تو آپ واک کی عادت اپنا سکتے ہیں۔

مساج

مساج کی مدد سے بھی حمل کے دوران قبض کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اگر حمل کے دوران آپ قبض کا شکار ہیں تو پیٹ پر کلاک وائز مساج کریں۔ اس مساج سے قبض کی شدت میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔

اگر ان علاج کی مدد سے حمل کے دوران قبض کا خاتمہ نہ ہو تو آپ کو کسی گائنا کالوجسٹ سے رابطہ کرنا ہو گا، آسانی کے ساتھ کسی بھی گائنا کالوجسٹ سے رابطہ کرنے کے لیے ہیلتھ وائر کا پلیٹ فارم استعمال کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ ہیلتھ وائر نے رابطوں کو بہت آسان بنا دیا ہے۔

Related Videos

Related Posts

Leave a Comment