Home General Health گردن توڑ بخار کے 3 مؤثر علاج اور اس کی علامات جانیے

گردن توڑ بخار کے 3 مؤثر علاج اور اس کی علامات جانیے

gardan-tor-bukhar-ka-ilaj
Spread the love

گردن توڑ بخار ایک انفیکشن او سوزش ہے جو کہ دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے اردگرد موجود سیال اور جھلیوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان جھلیوں کی تعداد تین ہوتی ہے جنہیں میننجز کہا جاتا ہے۔ 

دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے اردگرد پائے جانے والے سیال کو زیادہ تر بیکٹیریل یا وائرل انفیکشن متاثر کرتی ہے۔ تاہم چوٹ، کینسر، اور کچھ مخصوص ادویات کے استعمال سے بھی گردن توڑ بخار لاحق ہو سکتا ہے۔ اگر بیکٹیریا کی وجہ سے گردن توڑ بخار لاحق ہو تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیوں بیکٹیریا کی وجہ سے لاحق ہونے والا گردن توڑ بخار بہت شدت سے متاثر کرتا ہے۔

بیکٹیریا کی وجہ سے لاحق ہونے والی گردن توڑ بخار کی علامات چوں کہ شدید ہوتی ہیں اس لیے اس بچاؤ کے لیے ویکسین ضرور لگوانی چاہیئے۔ اس کے علاوہ وائرل انفیکشن کی وجہ سے لاحق ہونے والا گردن توڑ بخار کی شدت زیادہ نہیں ہوتی۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام مضبوط ہو وہ کسی دوا کو استعمال کیے بغیر کچھ دنوں بعد خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم وائرس کی وجہ سے گردن توڑ بخار سے بچاؤ کے لیے بھی ویکسین لگوائی جا سکتی ہے۔ یہ بخار زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتا ہے، لیکن یہ بڑوں کو بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

گردن توڑ بخار کی علامات کے بارے میں جاننا نہایت ضروری ہوتا ہے کیوں کہ اس کی علامات کو بہت سے لوگ معمولی طبی علامات سمجھتے ہیں اور ان کو علم نہیں ہوتا کہ یہ علامات گردن توڑ بخار کی ہیں۔

گردن توڑ بخار کی علامات

گردن توڑ بخار کی علامات ابتدا میں فلو سے ملتی جلتی ہیں۔ جن میں کچھ گھنٹوں یا دنوں بعد شدت آ سکتی ہے۔ دو سال سے زائد عمر کے بچوں میں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

اچانک تیز بخار –
گردن میں کھنچاؤ –
متلی –
قے –
توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات –
جسم کپکپانا –
غنودگی –
چلنے میں مشکلات –
روشنی سے حساسیت –
بھوک اور پیاس میں کمی –
جِلد پر سرخ دھبے ظاہر ہونا –

نوزائیدہ بچوں میں گردن توڑ بخار کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔ ایسے بچوں میں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

تیز بخار –
لگاتار رونا (گردن توڑ بخار کا شکار بچے لگاتار روتے رہتے ہیں) –
بے چینی –
سو کر اٹھنے میں مشکلات –
بھوک کی کمی –
سستی –
قے –
گردن یا جسم کے دوسرے اعضاء میں کھنچاؤ –

گردن توڑ بخار کے علاج کے لیے عام طور پر عام طور پر اینٹی بائیوٹک اور اینٹی وائرل ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ جنرل ہسپتال لاہور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر بیکٹیریا کی وجہ سے گردن توڑ بخار کا سامنا کرنا پڑے تو اینٹی بائیوٹک ادویات دی جاتی ہیں۔

لیکن اگر وائرسز کی وجہ سے گردن توڑ بخار لاحق ہو تو اینٹی وائرل ادویات کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اگر گردن توڑ بخار شدت اختیار کر جائے تو نسوں میں انجیکشنز لگائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ گردن توڑ بخار کے مریضوں کو ڈی ہائڈریشن سے بچاؤ کے لیے ڈرپس بھی لگائی جاتی ہیں۔ 

اس کے ساتھ ساتھ گردن توڑ بخار کے لیے کچھ دیسی علاج بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ان علاجوں میں استعمال ہونے والی غذاؤں اور پروڈکٹس میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل خصوصیات پائی جاتی ہیں اس لیے یہ گردن توڑ بخار کے خلاف کردار ادا کرتے ہیں۔

گردن توڑ بخار کے دیسی علاج

گردن توڑ بخار کے مندرجہ ذیل دیسی علاج نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

لہسن

گردن توڑ بخار کے خلاف لہسن کو ایک مفید سبزی سمجھا جاتا ہے۔ لہسن کے استعمال سے اس بیماری کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اگر آپ لہسن کو متوازن مقدار میں باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں تو اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ گردن توڑ بخار آپ کو متاثر کرے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ لہسن کس طرح گردن توڑ بخار سے بچاؤ اور اس کے علاج میں مدد دیتا ہے؟ لہسن میں ایسے کمپاؤنڈز پائے جاتے ہیں جو اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل خصوصیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان کمپاؤنڈز کی وجہ سے لہسن کو گردن توڑ بخار کے خلاف فائدم مند سمجا جاتا ہے۔

زیتون کے پتے

زیتون کے پتوں کو بھی گردن توڑ بخار کی علامات کا دیسی علاج سمجھا جاتا ہے۔ ان علامات سے چھٹکارا پانے کے لیے زیتون کے پتوں کا ایکسٹریکٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیتون کے پتوں کی چائے یا قہوہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے کہ دماغ اور ریڑھ کی ہڈیوں کی جھلیوں میں سوزش لاحق ہونے کی وجہ سے گردن توڑ بخار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے گردن توڑ بخار سے نجات حاصل کرنے کے لیے سوزش سے چھٹکارا پانا ضروری ہوتا ہے۔ 

زیتون کے پتوں میں چوں کہ سوزش کو کم کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں اس لیے یہ گردن توڑ بخار کی وجہ بننے والی سوزش کے خلاف مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیتون کے پتوں میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں جو گردن توڑ بخار کی وجہ بننے والے بیکٹیریا کو ختم کرنے میں مدد فرام کرتی ہیں۔

جنسنگ

جنسنگ کو بھی گردن توڑ بخار کی شدت میں کمی لانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جنسنگ کو دماغی صلاحیت میں اضافے کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ جنسنگ میں سوزش کو کم کرنے والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔

اس جڑی بوٹی میں پائے جانے والے اجزاء دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی جھلی کو پہنچنے والے نقصانات کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ آپ اس جڑی بوٹی کو پانی میں ابال کر اس کا قہوہ بنا سکتے ہیں۔

گردن توڑ بخار کی علامات اور اس کے علاج کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی میڈیسن اسپیشلسٹ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ آسانی کے ساتھ کسی بھی میڈیسن اسپیشلسٹ سے رابطہ کرنے کے لیے ہیلتھ وائر کا پلیٹ فارم استعمال کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ ہیلتھ وائر نے رابطوں کو بہت آسان بنا دیا ہے۔

Related Posts

Leave a Comment