Home Pain Managment کان درد کے 11 علاج جو مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

کان درد کے 11 علاج جو مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

Published: Last Updated on
kan-dard-ka-ilaj
Spread the love

کان درد کوئی شدید بیماری تو نہیں ہے، تاہم یہ بہت تکلیف دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عام طور پر کان درد کا سامنا مختصر وقت کے لیے کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر یہ درد شدت اختیار کر جائے تو یہ کئی دنوں تک بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

اکثر اوقات انفیکشن کی کی وجہ سے کان درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم کان درد کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سرِ فہرست نتھنوں کی سوزش، گلے کی انفیکشن، کیویٹیز اور کان کا میل شامل ہے۔

انفیکشن کان کے درمیانی حصے کو شانہ بناتا ہے جس کی وجہ سے اس کا درمیانی حصہ سوزش کا شکار ہو جاتا ہے جو بالآخر درد کی وجہ بنتا ہے۔ زیادہ تر افراد کو کان درد کے ساتھ بخار یا فلو کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بچوں میں کان درد کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں، جب کہ کئی مرتبہ بڑے بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کان درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے اینٹی بائیوٹک ادویات بھی استعمال کی جاتی ہیں، تاہم ان ادویات کے استعمال سے مضرِ صحت اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے کان درد کے آغاز میں ایسی ادویات کے استعمال سے گریز کرنا چاہیئے۔

ادویات کے برعکس اگر گھریلو علاج پر عمل کیا جائے تو کان درد سے آسانی کے ساتھ چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ 

کان درد کا علاج

مندرجہ ذیل گھریلو علاج کان درد سے چھٹکارا پانے کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

لہسن

جسم کے مختلف اعضاء کے درد سے چھٹکارا پانے کے لیے لہسن کو ایک قدرتی غذا سمجھا جاتا ہے۔ لہسن کے طبی فوائد کی وجہ سے اسے ایک قدرتی دوا سمجھا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق لہسن میں اینٹی بائیوٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں جس سے کئی قسم کی بیماریوں کی شدت میں کمی آتی ہے، اس کے علاوہ سوزش سے بھی نجات ملتی ہے۔

کان درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے لہسن کے دو ٹکڑوں کو لے کر پیس لیں اور اسے دو چمچ سرسوں کے تیل میں اس وقت گرم کریں جب تک لہسن کی رنگت تبدیل نہ ہو جائے۔ رنگت تبدیل ہونے پر آئل کو ٹھنڈا کر لیں اور پھر اس کے چند قطرے کان میں ٹپکائیں، جس سے کان درد کی شدت میں کمی آئے گی۔

اگر آپ کان درد سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو رات کو سونے سے لہسن کے ایک ٹکڑے کو کاٹ کر کان میں رکھ لیں۔ صبح تک کان درد کی شدت میں کمی آ جائے گی۔

جراثیم اور انفیکشن کی وجہ سے کان کا درد شدت اختیار کر لیتا ہے، لہسن کو کان میں رکھنے سے ان جراثیم اور انفیکشن کا خاتمہ ہوتا ہے، جس سے کان درد سے چھٹکارا پانے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

تاہم طبی ماہرین کے مطابق کان درد کے شکار مریض کو اگر کسی بھی قسم کی الرجی کا سامنا ہو تو لہسن کو کان میں رکھنے سے قبل انہیں اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیئے۔

نمک

نمک کو بھی کان درد سے چھٹکارا پانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ نمک بھی کئی طبی خصوصیات کا حامل ہے۔

کان کے درد کی شدت کو کم کرنے کے لیے تھوڑا سا نمک لے کر ہلکی آنچ پر گرم کر لیں اور پھر اسے روئی کا لگا کر کان میں رکھ لیں۔ نمک لگی اس روئی کو دس منٹ کے لیے کان میں رہنے دیں۔ یہ روئی کان درد کی وجہ بننے والے سیال کو کھینچ لے گی، جس سے سوزش کم ہو جائے گی۔ سوزش میں کمی آنے سے درد کی شدت بھی کم ہو گی۔

دیسی گھی

صحت کو برقرار رکھنے کے لیے دیسی گھی کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے، اس کا استعمال نہ صرف جسمانی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ دیسی گھی سے اور بھی کئی طبی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اگر آپ کان درد کا شکار ہیں تو ایک تولہ دیسی گھی اور تین ماشہ کافور لے کر مکس کر لیں، اور اس مکسچر کو دھوپ میں رکھیں۔ کچھ دیر بعد گھی کے دو سے تین قطرے کان میں ڈالیں جس سے درد سے نجات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

آئس پیک

کان درد لاحق ہونے کی صورت میں کسی کپڑے کو ٹھنڈا کر کے کے بیس منٹ کے لیے کان پر رکھیں، اس سے کان سُن ہو جائے گا جس سے درد اور سوزش کی شدت کم ہونا شروع ہو جائے گی۔

تلسی کے پتے

تلسی کے پتے بھی بہت سی طبی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں، اس لیے یہ کان درد کے خلاف مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ کان کے درد کا سامنا کرنے کی صورت میں تلسی کے چند پتوں کو لے کر پیس لیں۔ پتوں سے حاصل ہونے والے عرق کی مدد سے کان کے درد سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ تاہم تلسی کے پتوں سے حاصل کیے گئے عرق کو استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح ہلا لیں۔

زیتون کا تیل

مختلف ممالک میں زیتون کو ایک کان درد کا ایک روایتی علاج سمجھا جاتا ہے، تاہم اس حولے سے مزید طبی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

کان کے درد کی شدت کو کم کرنے کے لیے زیتون کے تیل کو نیم گرم کے چند قطرے کان میں ٹپکائیں، کان درد کو ختم کرنے کا یہ ایک مؤثر طریقہ ہے۔

سیب کا سرکہ

صحت کے لیے سیب کے سرکے کو بھی بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔ کان درد سے چھٹکارا پانے کے لیے روئی کو سیب کے سرکے میں بھگو کر کان میں رکھیں۔ اس کے علاوہ پانی اور سیب کے سرکے کو مکس کر کے روئی کی مدد سے کان میں رکھا جا سکتا ہے، اس روئی کو پانچ منٹ کے لیے کان میں رہنے دیں، جس سے کان کے درد کی شدت کم ہو جائے گی۔ 

سیب کے سرکے میں چوں کہ جراثیم کش اور اینٹی فنگل خسوصیات پائی جاتی ہیں جن سے کان درد کا علاج ممکن ہو پاتا ہے۔

ادرک

ادرک میں بھی سوزش کو کم کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں، اس لیے یہ جڑ نما سبزی بھی کان درد کے علاج میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس درد کی شدت کو کم کرنے کے لیے ادرک کو سرسوں کے تیل میں جلا کر کان کے اردگرد لگائیں۔ تاہم ادرک ملے تیل کو کان میں ڈالنے سے گریز کریں۔

کان پر دباؤ نہ بڑھائیں

درد والے کان کی کروٹ پر سونے سے یہ درد شدت اختیار کر سکتا ہے، اس لیے کان پر دباؤ بڑھانے سے گریز کریں۔ رات کو سونے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ نیند کے دوران کان پر وزن نہ پڑے۔

ہائڈروجن پرآکسائڈ

کافی سالوں سے ہائڈروجن پر آکسائڈ کو کان درد کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کان کے درد سے چھٹکارا پانے کے لیے ہائڈروجن پرآکسائڈ کے چند قطرے کان میں ڈالیں۔ تاہم اس گھریلو پر عمل کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ایک مرتبہ مشورہ ضرور کرنا چاہیئے۔

پیاز کا رس

پیاز کا رس بھی کان درد کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے پیاز کے رس کے چند قطرے کان میں ٹپکائیں۔ 

کان کے یہ علاج اگر آپ کے لیے مؤثر ثابت نہ ہوں تو آپ کو کسی ماہرِ امراض کان، ناک، اور گلہ سے رابطہ کرنا ہو گا۔ آسانی کے ساتھ کسی ماہرِ امراضِ کان، ناک، اور گلہ سے رابطہ کرنے کے لیے آپ ہیلتھ وائر کا پلیٹ فارم استعمال کر سکتے ہیں، کیوں کہ ہیلتھ وائر نے رابطوں کو بہت آسان بنا دیا ہے۔

Related Posts

Leave a Comment